# طلاق کے بارے میں

**Institution:** Darul Ifta Kauzariyya
**Category:** Social Matters
**Madhab (School):** Hanafi
**Mufti / Jurist:** Al Usthad Ilyas Al Kauzari
**Published Date:** January 01, 1970
**Canonical URL:** https://www.daruliftakauzariyya.com/fatwa-archive/680-%D8%B7%D9%84%D8%A7%D9%82-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA

---

## Question

مکرمی السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں؟ یہ کہ زید شادی شدہ ہے اور اسکے دو بچے ہیں ۔ ایک دن زید کا اپنی بیوی سے کسی بات کو لے کر تنازعہ ہو جاتا ہے تنازعہ اس قدر بڑھتا ہے کہ زید اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اور ایک نشست میں لاتعداد مرتبہ طلاق کے الفاظ استعمال کرتا ہے اور زید کی بیوی اسکے گھر سے چلی جاتی ہے ۔پھر دو دن کے بعد کچھ لوگوں کی ثالثی پر زید اور اسکی بیوی میں صلح ہو جاتی ہے اور عورت دوبارہ زید کے گھر لوٹ آتی ہے اور اسکے ہمراہ رہنے لگتی ہے ۔ تقریباً دو ماہ بھی نہیں گزرتے ہیں کہ دونوں میں دوبارہ تنازعہ شروع ہو جاتا ہے اور زید یہ کہتے ہوئے اس عورت کو گھر سے نکال دیتا ہے کہ وہ تو اسکو دو ماہ قبل ہی طلاق دے چکا ہے ۔ تو کیا پہلی نشست میں زید اور اسکی بیوی کے درمیان طلاق ہوگیا ؟ اگر طلاق ہوگیا تو دونوں کا ایک ساتھ دو ماہ گزارنا کیسا ہے؟ نوٹ۔۔۔۔۔۔ زید نے فقط طلاق کا لفظ استعمال کیا اسکی نوعیت بیان نہیں کی

## Answer / Fatwa Ruling

الجواب :زید نے ایک &rlm; &rlm;دفعہ &rlm;طلاق کا لفظ کہنے کے بعد &nbsp;باربار محض تاکید کی نیت ہے لفظ طلاق دہرایا ہے . اور جدید طلاق کی نیت نہیں کی تو دیانة ایک رجعی طلاق واقع ہوگی . تین حیض کی مدت کے اندر اندر صلح کرکے واپس آنا ہی رجعت ہے دونوں کا ایک ساتھ دو ماہ گزارنا جائز تہا&nbsp; &nbsp;

---
*© 2026 Darul Ifta Kauzariyya. Verified and published according to the Islamic legal sources.*