# قربانی میں شریک آدمی کا ذبح کرنے کی اجرت لینا

**Institution:** Darul Ifta Kauzariyya
**Category:** Prayers & Duties
**Madhab (School):** Hanafi
**Mufti / Jurist:** Althaf Qasimi
**Published Date:** January 01, 1970
**Canonical URL:** https://www.daruliftakauzariyya.com/fatwa-archive/1027-%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B4%D8%B1%DB%8C%DA%A9-%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%B0%D8%A8%D8%AD-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C

---

## Question

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  اگر قربانی کے بڑے جانور میں کوئی ایک حصے دار ایسا ہو جو جانور ذبح کرنا جانتا ہو. مثلاً قصائی ہو تو اگر وہ ذبح جانور کی پہلے اجرت طے کرکے قربانی کرے جبکہ وہ خود اسی جانور میں شریک ہے تو کیا اس کے اس فعل کی وجہ سے اسکی اور دوسرے حصے داروں کی قربانی درست نہ ہوگی؟ فتاویٰ محمودیہ جلد17 صف 315 ط اشرفی دیوبند میں ایک مسئلہ درج ہے &quot;&quot; سوال:جو شخص غریب ہے کیا صرف جانور خریدنے سے اس کے ذمے قربانی واجب ہوجاتی ہے؟ الجواب :اگر وہ قربانی کے دنوں میں قربانی کی نیت سے جانور خریدے گا تب اس کے ذمے قربانی واجب ہوگی-فقط واللہ اعلم. تو کیا اس مسئلے کی رو سے اگر کوئی غریب 10 ذی الحجہ سے پہلے کوئی جانور خریدے اور پھر کسی مجبوری سے بیچ دے تو یہ درست ہوگا ہا نہیں؟؟ کیا محض خریدنے سے قربانی کا وجوب ہوجائے گا یا نہیں؟ یا ایام قربانی میں خریدنے سے وجوب ہوگا؟؟

## Answer / Fatwa Ruling

1) قربانی کے حصہ داروں میں سے &nbsp;کسی کے لئے جانور کو ذبح کر کے اس کی اجرت لینا درست نہیں- البتہ تمام &nbsp;حصہ داروں کی قربانی صحیح و جائے گی 2) ایام قربانی سے پہلے کسی فقیر نے جانور خریدے تو اس پر اضحیہ لازم نہ ہوگی اور اس کو بیچنے میں کوئی حرج نہیں

---
*© 2026 Darul Ifta Kauzariyya. Verified and published according to the Islamic legal sources.*